اشاعتیں

بلی کو باندھ دو

پرانے وقتوں میں دور پہاڑوں میں واقع خانقاہ میں ایک روحانی استاد اور اس کے شاگرد ہر شام مراقبہ کیا کرتے تھے۔ ایک شام جب انہوں نے مراقبہ شروع کیا تو خانقاہ میں رہنے والی بلی نے ایسا شور مچایا کہ ان سب کی توجہ مراقبہ سے ہٹ گئ۔   استاد نے حکم دیا کہ آئندہ سے شام کی مشق کے دوران بلی کو باندھ دیا جائے۔ کچھ برسوں بعد استاد مر گیا۔ مگر اس کے شاگرد باقاعدگی کے ساتھ مراقبہ کے دوران بلی کو باندھتے رہے۔ بالآخر ایک روز بلی دم توڑ گئی۔ پھر ایک اور بلی کو خانقاہ میں لایا گیا اور پہلی بلی کی جگہ باندھ دیا گیا۔ یوں صدیاں بیت جانے کے بعد بھی بلی کو باندھنے کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ بلکہ اس استاد کے بہت سے قابل شاگردوں نے مراقبہ کی مشق کے لئے بلی کو باندھنے کی مذہبی، سماجی، اور معاشرتی   اہمیت کے بارے میں بہت سی علمی تحریریں بھی لکھی ہیں۔ یاد رکھیں، بہت سی چیزیں جن کے بارے میں ہم سوچتے رہتے ہیں اور بہت سے کام جو ہم ضروری سمجھ کر کرتے ہیں وہ محض بلی کو باندھنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ ان کاموں کی نہ کوئ حقیقت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئ خاص فائدہ۔ مگر ہم ان کاموں کو اہم اس لئے سمجھ بیٹھتے ...

دولت مند فقیر اور اپنی تلاش

پرانے وقتوں میں ایک بار ایک چور شاہی محافظوں سے بچ کر بھاگ رہا تھا۔ اس نے ایک بھکاری کو ایک تنگ و تاریک گلی میں سوئے ہوے دیکھا۔ اس چور نے چوری کیا ہوا زیورات کا ایک چھوٹا سا لیکن انمول اور نہایت قیمتی ٹکڑا چھپا کر اس بھکاری کی جیب میں ڈال دیا اور خود بھاگ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ بس وہ ایک دفعہ کسی طرح شاہی محافظوں سے بچ جائے تو وہ واپس آ کر زیورات کہ اس ٹکڑے کو فقیر کی جیب سے دوبارہ چرا لے گا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ وہ چور اسی رات محافظوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگیا۔ بھکاری اب ایک امیر آدمی تھا۔ اس کی جیب میں اتنی دولت موجود تھی کہ وہ آرام سے زندگی گزار سکے  لیکن اس نے ایک بار بھی کبھی اپنی جیب کو ٹٹول کر نہیں دیکھا۔ لہذا اسے کبھی پتہ ہی نہیں چل سکا کہ وہ ایک امیر انسان تھا اور اس نے اپنی باقی ساری زندگی ایک بھکاری کے طور پر ہی بسر کر دی۔ یاد رکھیں، آپ کبھی نہیں جانتے کہ جب آپ اپنے من کے اندر نظر دوڑائیں گے، اپنی ذات کو کھوجنے کی کوشش کریں گے، اپنی تلاش کا آغاز کریں گے تو آپ کو کیا ملے گا. ہو سکتا ہے آپ کے اندر بہت سے خزانے چھپے ہوں اور آپ کو اس بات کا علم ہی نہ ہو۔

مثبت چیزوں کو نظرانداز نہ کریں

یہ انسانی طبعیت کا جھکاؤ ہے کہ ہم منفی چیزوں پہ مثبت چیزوں کی نسبت زیادہ دھیان دیتے ہیں۔ ہر روز ، ہم زندگی کی ان گنت نعمتوں ، دوسروں کی طرف سے ملنے والی تعریف ، اہداف کے حصول ، وغیرہ کو معمولی سمجھ کر بڑی آسانی سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، خوشی عطا نہیں ہے بلکہ ہمیں اسے کوشش سے حاصل کرنا ہے۔ اگر ہم خوش رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر دن خوشی کے حصول پہ کام کرنا ہو گا۔ خوشگوار زندگی گزارنے کے لئے ہمیں اپنی ذندگی میں موجود مثبت چیزوں کو شعوری طور پر محسوس کرنا ہوگا۔ لہذا ، آپ صرف اپنی زندگی میں پہلے سے ہی موجود نعمتوں اور ہر روز حاصل ہونے والی بالکل چھوٹی چھوٹی سی کامیابیوں کو نوٹ کرنا اور گننا شروع کر دیں۔ آپ کی خوشی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھنے لگے گی۔

زندگی منصفانہ ہے یا غیر منصفانہ؟

زندگی نہ تو منصفانہ ہے اور نہ ہی غیر منصفانہ۔ یہ انسان کے سوچنے کا انداز ہوتا ہے جو زندگی کو منصفانہ یا غیر منصفانہ قرار دیتا ہے۔ یاد رکھیں کہ زندگی اپنے آپ میں مستقل ہے۔ یہ آپ کے فیصلے اور عملی اقدامات ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی میں مختلف  قسم کی تبدیلیوں اور نتائج کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لہذا ، کبھی بھی مایوس نہ ہوں کہ زندگی آپ کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ جتنا آپ زندگی کے ہاتھوں میں ہیں اتنا ہی   زندگی بھی آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ خود پہ کام کریں، اپنی شخصیت کو مضبوط بنائیں، فیصلہ سازی کی صلاحیت کو نکھاریں اور اپنی زندگی کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

سب کچھ حاصل کرنے کی خواہش

زندگی کو مطلق العنانیت میں یا سیاہ اور سفید رنگوں میں دیکھنا غلطی پر مبنی رجحان ہے۔ آپ زندگی میں 100٪ کامیابی چاہتے ہیں اور کبھی بھی 50٪، 60٪ یا 70٪ کامیابی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ کو ذندگی میں ہمیشہ کچھ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور آپ کے آس پاس ہمیشہ تنقید کرنے والے لوگ موجود رہیں گے۔ آپ ان کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتے۔ لہذا ، کبھی بھی کمال پرستی کے حصول کی کوشش نہ کریں بلکہ ہمیشہ برتری کے حصول کے لئے کوشاں رہیں۔ سیاہ یا سفید رنگوں کی بجائے سرمئی رنگ میں سوچنا آپ کو ذہنی سکون دلائے گا۔

دوسروں کو کنٹرول کرنے کی خواہش

آج ہم میں سے ہر ایک دوسروں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ اس رجحان نے ہماری پیشہ ورانہ ، ذاتی ، سماجی اور مذہبی  زندگی کے اجتماعی اور انفرادی توازن کو ختم کردیا ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ صرف دوسروں کو متاثر کرسکتے ہیں لیکن آپ ان کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ہاں ہوسکتا ہے کہ آپ مختصر مدت کے لیے زبردستی ان پر قابو پا لیں لیکن بالآخر ایک دن وہ آپ کے کنٹرول سے نکل کے ہی رہیں گے۔ لہذا ، دوسروں کو کبھی بھی قابو میں کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ ہمدردی اور دانشمندی سے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں۔ ماہرین کے مطابق اکیسویں صدی میں صرف وہی تعلقات زندہ رہ سکتے ہیں جو طاقت کی بجائے باہمی افہام و تفہیم پر مبنی ہوں۔