بلی کو باندھ دو
پرانے وقتوں میں دور پہاڑوں میں واقع خانقاہ میں ایک روحانی استاد اور
اس کے شاگرد ہر شام مراقبہ کیا کرتے تھے۔ ایک شام جب انہوں نے مراقبہ شروع کیا تو خانقاہ
میں رہنے والی بلی نے ایسا شور مچایا کہ ان سب کی توجہ مراقبہ سے ہٹ گئ۔ استاد نے حکم دیا کہ آئندہ سے شام کی مشق کے دوران
بلی کو باندھ دیا جائے۔
کچھ برسوں بعد استاد مر گیا۔ مگر اس کے شاگرد باقاعدگی کے ساتھ مراقبہ
کے دوران بلی کو باندھتے رہے۔ بالآخر ایک روز بلی دم توڑ گئی۔ پھر ایک اور بلی کو خانقاہ
میں لایا گیا اور پہلی بلی کی جگہ باندھ دیا گیا۔ یوں صدیاں بیت جانے کے بعد بھی بلی
کو باندھنے کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
بلکہ اس استاد کے بہت سے قابل شاگردوں نے مراقبہ کی مشق کے لئے بلی کو
باندھنے کی مذہبی، سماجی، اور معاشرتی اہمیت
کے بارے میں بہت سی علمی تحریریں بھی لکھی ہیں۔
یاد رکھیں، بہت سی چیزیں جن کے بارے میں ہم سوچتے رہتے ہیں اور بہت سے
کام جو ہم ضروری سمجھ کر کرتے ہیں وہ محض بلی کو باندھنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ ان کاموں
کی نہ کوئ حقیقت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئ خاص فائدہ۔ مگر ہم ان کاموں کو اہم اس لئے سمجھ
بیٹھتے ہیں کیونکہ ہمارے ارد گرد سبھی لوگ یہ کام پورے زور و شور سے کر رہے ہوتے
ہیں۔
بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ لوگ صدیوں سے آج تک ایسے کام کرتے چلے آ رہے
ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو خود نہیں پتہ کہ وہ یہ کام کیوں کرتے ہیں۔
لہذا اپنے ذہن میں رکھیں کہ نہ ہر بات سوچنے والی ہوتی ہے اور نہ ہر کام
کرنے والا۔ جب بھی آپ ذندگی میں کوئ کام کرنے لگیں تو پہلے خود سے پوچھ لیں کہ کیا
واقعی بلی کو باندھنے کی ضرورت ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں