دولت مند فقیر اور اپنی تلاش

پرانے وقتوں میں ایک بار ایک چور شاہی محافظوں سے بچ کر بھاگ رہا تھا۔ اس نے ایک بھکاری کو ایک تنگ و تاریک گلی میں سوئے ہوے دیکھا۔ اس چور نے چوری کیا ہوا زیورات کا ایک چھوٹا سا لیکن انمول اور نہایت قیمتی ٹکڑا چھپا کر اس بھکاری کی جیب میں ڈال دیا اور خود بھاگ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ بس وہ ایک دفعہ کسی طرح شاہی محافظوں سے بچ جائے تو وہ واپس آ کر زیورات کہ اس ٹکڑے کو فقیر کی جیب سے دوبارہ چرا لے گا۔

مگر ایسا نہ ہو سکا۔ وہ چور اسی رات محافظوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگیا۔ بھکاری اب ایک امیر آدمی تھا۔ اس کی جیب میں اتنی دولت موجود تھی کہ وہ آرام سے زندگی گزار سکے  لیکن اس نے ایک بار بھی کبھی اپنی جیب کو ٹٹول کر نہیں دیکھا۔ لہذا اسے کبھی پتہ ہی نہیں چل سکا کہ وہ ایک امیر انسان تھا اور اس نے اپنی باقی ساری زندگی ایک بھکاری کے طور پر ہی بسر کر دی۔

یاد رکھیں، آپ کبھی نہیں جانتے کہ جب آپ اپنے من کے اندر نظر دوڑائیں گے، اپنی ذات کو کھوجنے کی کوشش کریں گے، اپنی تلاش کا آغاز کریں گے تو آپ کو کیا ملے گا. ہو سکتا ہے آپ کے اندر بہت سے خزانے چھپے ہوں اور آپ کو اس بات کا علم ہی نہ ہو۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سب کچھ حاصل کرنے کی خواہش

دوسروں کو کنٹرول کرنے کی خواہش

زندگی منصفانہ ہے یا غیر منصفانہ؟